Breaking

Monday, 20 May 2019

May 20, 2019

Ya Allah Tera Shukar Hai

یا اللہ تیرا شکر ہے

ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم پڑھ لکھ سکتے ہیں ہم صحت مند ہیں ہم باشعوراور عقل مند ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے یہ کام نہیں کرتے۔ دراصل ہمیں ان سب نعمتوں کی قدر اسلئے بھی نہیں ہے کہ ہم نے کبھی ان کے بغیر کچھ وقت گزارا ہی نہیں ہے۔

خالد نجیب خان:
ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم پڑھ لکھ سکتے ہیں ہم صحت مند ہیں ہم باشعوراور عقل مند ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے یہ کام نہیں کرتے۔ دراصل ہمیں ان سب نعمتوں کی قدر اسلئے بھی نہیں ہے کہ ہم نے کبھی ان کے بغیر کچھ وقت گزارا ہی نہیں ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی چھ ارب کی آبادی میں سے ہم جیسے چند کروڑ لوگ ہی ہوں گے جن کے پاس یہ نعمتیں موجود ہیںاور ان میں بچوں کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔ اگر پاکستان کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ہم جیسے لوگ اور بھی کم ہیں ۔
چونکہ ہمارا تعلق بھی اپنے جیسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے اس لیے ہمیں وہ لوگ بہت کم نظر آتے ہیں حالانکہ وہ لوگ جو نعمتوں سے محروم مگر تعداد ہم سے بہت زیادہ ہیں اور ہمارے آس پاس بھی ہوتے ہیں مگر ہمیں اتنی فرصت ہی نہیں ہوتی کہ ہم ان کے بارے کچھ سوچیں یا کچھ کریں۔
ہم نے سنا ہے کہ اللہ کا شکرضرور ادا کرنے سے نعتیں بڑھ جاتی ہیں لہٰذا مزید نعمتوں کے حصول کے لیے ہمیں اللہ کا شکر ضرور ادا کرنا چاہے اور ساتھ ساتھ مزید کے حصول کے لیے تگ و دو بھی جاری رکھنی چاہیے۔ اگر ہم اپنے اردگرد ہی نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے لوگ نظر آجاتے ہیں جن کے پاس وہ تمام سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔
ہم پڑھ لکھ سکتے ہیں مگر وہ پڑھ لکھ نہیں سکتے ، ہم اچھے سکولوں کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر بہت سے بچے صرف اس لئے اس نعمت سے محروم ہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ ہم اپنے سکولوں کالجوں اور اکیڈیمز میں ہزاروں روپے فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کرتے ہیں تو کیا ایک غریب بچے جو جسکے پاس تعلیم حاصل کرنے کے وسائل ہیں ہی نہیں اُسے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کچھ وسائل فراہم نہیں کر سکتے۔
ایسے بچوں کو کس کم فیس والے سکول میں بھی داخلہ دلوایا جا سکتا ہے یا اُسے کتابیں خرید کر دی جا سکتی ہیں یا کسی اور طریقے سے اُسے تعلیم کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے ۔اسی طرح ہم اپنے علاج کے لیے مہنگے سے مہنگے اور بڑے بڑے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور پھر مہنگی سے مہنگی دوائی تجویز کراتے ہیں اور بعض اوقات وہ ادویات استعمال تک بھی نہیں کرتے ۔
جبکہ دوسری طرف ہمارے گھر کے ہی آس پاس، ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے پاس مہنگی دوائی تو دورکی با ت ہے سستی دوائی بھی خریدنے کے لیے وسائل نہیں ہوتے۔ صحت کے حوالے سے بھی ہمیں اللہ کا بے حد شکر گزار ہونا چاہیے تاکہ ہمیں صحت کی مزید نعتیں ملتی رہیں۔
اس وقت بچوں کے عالمی ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں چودہ کروڑ بچوں کی زندگیوں کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ یہ بچے وٹامن اے کی شدید کمی کا شکار ہیں جسکی وجہ سے اُنہیں اندھے اور بہرے پن کے ساتھ ساتھ موت کے خطرات بھی لاحق ہیں ۔
چودہ کروڑ کی تعداد کم نہیں ہے۔ کئی ملکوں میں آبادی چودہ کروڑ سے کم ہے ایسی خوفناک صورتحال اس سے پہلے بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
وٹامن اے کی کمی کتنی ہے اور کس کس کو ہے اس کا علم تو ہمیں ڈاکٹر کے پاس جا کر ہی ہوگا ہم لوگ اگر ڈاکٹر کے پاس جا سکتے ہیں تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھی لے جائیں خصوصاََ کسی مستحق بچے کو جس کے بارے میں ہمیںعلم ہے کہ اس کے وسائل کم ہیں اور ہم وہاں اُس کی جگہ اُسکی فیس ادا کر دیں یاپھر کسی سرکاری ہسپتال میں ہی اُسکے علاج کرانے میں اُس کی مدد کری سکیں۔
رمضان المبارک کا باربرکت مہینہ جہاںہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے کا سبق دیتا ہے وہاں مل بانٹ کر کھانے اوردوسروں کی تکالیف کا احساس کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔ کسی کی تکلیف اگر اس طرح دو ر کر دی جائے کہ وہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو جائے تو بھلا اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔
یہ مبارک مہینہ تو ہے ہی نیکیاں کمانے کا کہ اس میں ایک نیکی کا اجر 70 گنا ہو جاتا ہے۔ اس لیے دیگر نیکیوں کے ساتھ ساتھ ان نیکیوں پر بھی توجہ دی جائے جن پر عام لوگ توجہ نہیں دیتے اور ان پر خرچ بھی کچھ نہیں آتا۔اکثر بچوں کا رمضان تو صرف اس فکر میں ہی گزر جاتا ہے کہ وہ عید پر کیاپہنیں گے۔
بہت سے والدین بھی بچوں کی عید کی تیاری کے لیے نماز اور روزے کو قربان کرتے ہوئے بازاروں میں وقت برباد کر دیتے ہیں ۔ جو لوگ ایسا کرتے بھی ہیں تو اگر ساتھ ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ان لوگوں کا بھی خیال کر لیں جو یہ سب کچھ نہیں خرید سکتے۔ اگر دس ہزار روپے کی خریداری اپنے بچوں کے لیے کی ہے تو ایک ہزار روپے کی خریداری کسی غریب کے بچے کے لیے بھی کر لیں اور اُسے تحفہ دیتے ہوئے تاکید کریں کہ اللہ کا شکر ادا کریں۔
May 20, 2019

Jadeed Door Ka Shaikh Chili

جدید دور کا شیخ چلی

ایک بڑھیاکا بیٹاجس کو شیخ چلی کے نام سے پکارا جاتا بڑا کام چور تھا۔ بڑھیا محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پالتی۔ بڑھیا بیمار ہوئی تو گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ رات کو ماں بیٹا دونوں نے فاقہ کیا۔ اگلے دن ماں نے کہا ”اب تم کچھ کام کرو‘ جنگل سے لکڑیاں لا کر بیچ دیا کرو تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔

دانیہ بٹ:
ایک بڑھیاکا بیٹاجس کو شیخ چلی کے نام سے پکارا جاتا بڑا کام چور تھا۔ بڑھیا محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پالتی۔ بڑھیا بیمار ہوئی تو گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ رات کو ماں بیٹا دونوں نے فاقہ کیا۔
اگلے دن ماں نے کہا ”اب تم کچھ کام کرو‘ جنگل سے لکڑیاں لا کر بیچ دیا کرو تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔شیخ چلی نے جنگل کی راہ لی۔ جو درخت اس کے راستے میں آتا‘ اس سے پوچھتا ”میں تجھے کاٹ لوں ؟“ کسی درخت نے جواب نہ دیا۔
شیخ چلی گھر جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک اور درخت نظر آیا۔ اس نے اس نے پاس جا کر پوچھا ”میں تجھے کاٹ لوں؟“درخت بولا۔ ”ہاں کاٹ لے“ مگر ایک نصیحت کرتا ہوں۔ میری لکڑی سے پلنگ بنانا اور بادشاہ کے دربار میں لے جانابادشاہ کو کہنا پہلے ایک دو راتیں اس پر سوئے‘ پھر قیمت طے کرنا۔
شیخ چلی نے لکڑیاں کاٹ کر پلنگ تیار کیا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا۔ بادشاہ نے قیمت پوچھی تو شیخ چلی نے کہا ”پہلے آپ اس کو ایک دو رات استعمال کریں‘ پھر جو دل چاہے دے دیں۔“ بادشاہ بہت حیران ہوا اور شیخ چلی کے کہنے پر نوکروں کو حکم دیاکہ آج یہی پلنگ میرے کمرے میں بچھایا جائے۔
جب رات کو بادشاہ پلنگ پر سویا تو آدھی رات کو پلنگ کا ایک پایا بولا۔ ”آج بادشاہ کی جان خطرے میں ہے۔ دوسرے نے کہا ”وہ کیسے؟“ تیسرا بولا ”بادشاہ کے جوتے میں کالا سانپ ہے۔ چوتھے نے کہا ”بادشاہ کو چاہئے کہ صبح جوتا اچھی طرح جھاڑ کر پہنے۔
“ دوسری رات جب بادشاہ سویا تو پھر پایوں نے باتیں شروع کیں۔ ایک بولاکہ تم پلنگ کو سنبھالے رکھنا میں کچھ خبریں جمع کرکے آتا ہوں۔ تینوں پایوں نے پلنگ کو تھامے رکھا۔ چوتھا واپس آیا تو اس نے خبر سنائی کہ بادشاہ کا وزیر سازش کرکے بادشاہ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
پھر دوسرا پایا بولابادشاہ کی بیوی وزیر سے مل کر بادشاہ کو زہر دینا چاہتی ہے۔ تیسرے پائے نے تجویز پیش کی کہ بادشاہ کو چاہئے کہ وہ وزیر کو مروا دے۔ چوتھا پایا گیا اور خبر لایا کہ بادشاہ کو ناشتے میں جو دودھ دیا جائے گا وہ زہریلا ہوگا۔
بادشاہ یہ سب سن رہا تھا۔ صبح بادشاہ نے دودھ خود نہ پیا بلکہ ایک کتے کو پلا دیا۔ کتا اسے پیتے ہی مر گیا۔ اس سے بادشاہ کو پتہ چل گیا کہ اس کا وزیر اور بیوی اس کی زندگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بادشاہ نے وزیر کومروا دیا اور اپنی بیوی کو محل سے نکلوا دیا۔
بادشاہ نے شیخ چلی کو بلوایا اور خوب انعام و کرام سے نواز۔ جس سے شیخ چلی مالدار ہوگیا۔ لوگ اسے شیخ صاحب پکارنے لگے اور بادشاہ کے دربار میں عزت بڑھ گئی۔ اس طرح دونوں ماں بیٹے آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔
May 20, 2019

Akalmand Bakri

عقل مند بکری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری جنگل میں اپنے ریوڑ سے بچھڑگئی ۔شام ہورہی تھی اور رفتہ رفتہ رات کی سیاہی پھیل رہی تھی ۔

محمد اسحاق مغل آزاد کشمیر
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری جنگل میں اپنے ریوڑ سے بچھڑگئی ۔شام ہورہی تھی اور رفتہ رفتہ رات کی سیاہی پھیل رہی تھی ۔اس لئے اُس نے رات جنگل میں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔تھوڑی دور جا کر اُسے ایک غار نظر آئی جو ایک پہاڑی کے پاس تھی ۔
بکری کو رات گزارنے کے لئے یہ غار پسند آئی تو وہ غار کے اندر چلی گئی اور ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئی ۔
اتفاق سے اُس غار کے ایک کونے میں ایک خونخوار شیر بھی رہتا تھا جو اُس وقت غار کے اندر ہی تھا ۔شیر کو دیکھ کر بکری بُری طرح ڈر گئی ۔
اب وہ غار سے بھاگ کر زیادہ دور بھی نہیں جا سکتی تھی کیونکہ باہر بہت اندھیر ا ہو چکا تھا اور دوسرے جنگلی جانوروں کا بھی اُس کوڈر تھا ۔پھر اچانک ہی بکری کے دماغ میں ایک ترکیب آئی ۔

اُس نے اپنی گردن اکڑالی اور شیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے گھورنے لگی ۔
شیر نے یہ سب دیکھا تو اُسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔آج تک کسی جانور کو غار میں آنے کی ہمت نہ ہوئی تھی ۔شیر نے گر ج کر کہا تم کون ہو اور میرے غار میں کیوں آئی ہو ۔بکری بھی اکڑ کر بولی :میں بکریوں کی ملکہ ہوں ،میں نے قسم کھائی ہے کہ ایک سوچیتے ،پچاس ہاتھی اور پچیس زندہ شیر چباؤں گی ۔

اب تک سو چیتے اور پچاس ہاتھی تو چبا چکی ہوں اور اب صرف دس شیروں کی تلاش ہے ۔یہ سن کر شیر غار سے باہر بھاگ گیا۔اُسے بھاگتے بھاگتے جنگل میں ایک گیڈر ملا۔گیڈر نے شیر کو یوں بھاگتے دیکھا تو پوچھا اے جنگ کے بادشاہ آپ اتنی تیزی سے کدھر بھاگے جارہے ہیں ،کیا مسئلہ ہے ؟
شیر نے ساری بات گیڈر کو بتائی ۔
گیڈر شیر کی بات سن کر بہت ہنسا اور بولا :ارے بادشاہ سلامت اُس بکری نے ضرور آپ سے مذاق کیا ہو گا۔بھلا ایک بکری ایسا کیسے کر سکتی ہے ،اُس نے تو اپنی جان بچانے کیلئے یہ سب آپ کو بتایا ہے ۔آئیں واپس غار میں چلتے ہیں ،آج تو بیٹھے بٹھائے اتنی بڑی دعوت ملی ہے ہمیں ۔
اس طرح شیر اور گیڈر واپس غار میں آگئے ۔جب بکری نے دونوں کو آتے دیکھا تو پہلے تو وہ تھوڑی گھبرائی لیکن پھر ہمت کرکے بولی ۔
اے نا معقول غلام ‘ہم نے تجھ سے دس شیر لانے کو کہا تھا اور تم ایک ہی لے کر واپس آگئے ہو ۔شیر نے جب یہ سنا تو ایک ہی وار میں گیڈر کے دو ٹکڑے کر دئیے اور وہاں سے بھاگ گیا۔اِس طرح بکری نے اپنی عقلمندی سے اپنی جان بچالی ۔
May 20, 2019

Batakh Aur Murghi Ka Choza

بطخ اور مرغی کا چوزا

میں ہمیشہ یہ بات کرتی ہوں کہ ہمارے نو نہال ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ اگر آج ہم ان کی مضبوط اور اعلی اخلاقی اقدار پر مبنی تربیت کریں گے تو کل یہ ہمیں ایک بہترین معاشرہ دینے کے قابل ہو نگے۔

عیشتہ الرّاضیہ پیرزادہ
میں ہمیشہ یہ بات کرتی ہوں کہ ہمارے نو نہال ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ اگر آج ہم ان کی مضبوط اور اعلی اخلاقی اقدار پر مبنی تربیت کریں گے تو کل یہ ہمیں ایک بہترین معاشرہ دینے کے قابل ہو نگے۔
ابھی یہ عمر کے جس حصے میں ہیں اس میں ان کی بہترین تربیت سبق آموز کہانیوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔اس طرح یہ آپ کی نصیحت زیادہ تو جہ اور دلچسپی سے سنیں اور ذہن نشین رکھیں گے۔اسی خیال کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں ایک کہانی بیان کر رہی ہوں ۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ
بی بطخ اور مرغی دونوں نے انڈے دیئے۔ دونوں کو اپنے اپنے انڈوں پر بہت فخر تھا۔ جب یہ اپنے اپنے انڈوں پر بیٹھتیں تو ان کے چہروں پر ایک بیوقوف سی مسکراہٹ ہوتی۔ مرغی نے بی بطخ سے کہا کہ بہن کیا ہم اپنے انڈے ساتھ ساتھ رکھ کر دیکھیں کہ کس کے انڈے زیادہ خوبصورت ہیں ؟
بی بطخ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ایسا کر لیتے ہیں مگر میں جانتی ہوں کہ میرے انڈے زیادہ خوبصورت ہیں۔
بی مرغی یہ سن کر غصے میں آ گئی اور کہا کہ بہن پہلے میرے انڈے دیکھو پھر بات کرنا۔
بی بطخ اپنے انڈے لائی اور فرش پر بچھے بھوسے پر قطار میں رکھ دیئے۔ پھر اپنے ایک انڈے کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی کہ دیکھو یہ انڈہ کتنا گول مٹول ہے۔
پھر بی مرغی نے بھی اپنا ایک انڈہ اٹھایا اور کہا کہ یہ انڈہ دیکھو کتنا صاف شفاف اور گول مٹول ہے۔ پھر انہوں نے یہ دو انڈے نیچے رکھے اور مزید دو انڈے اٹھا لئے۔ بی بطخ بولی ’’یہ انڈہ گول بھی ہے اور شفاف بھی‘‘ اور اس کے اوپر باریک سی دھاریں بھی ہیں ۔
اسی طرح انڈوں پر بحث کرتے ہوئے جب انہوں نے آخری انڈہ نیچے رکھا تب تک مرغی اور بطخ کے انڈے مکس ہو گئے تھے۔
یہ دیکھ کر دونوں پریشان ہو گئیں۔ بی مرغی بولی کہ چونکہ میں بہت موٹی تازی ہوں اس لئے میرے انڈے بھی بڑے والے ہیں۔
یہ سن کر بی بطخ نے چھوٹے انڈے اٹھائے اور انہیں اپنے گھونسلے میں رکھ دیا۔ اسی طرح مرغی نے بڑے انڈے اٹھائے اور انہیں اپنے قبضے میں لے لیے۔ پھردونوں اپنے اپنے انڈوں پر تب تک بیٹھی رہیں جب تک ان میں سے پیارے پیارے ننھے منے گول مٹول چھوٹے چھوٹے چوزے نہیں نکل گئے۔
ایک دن دونوں اپنے اپنے چوزوں کو لئے سیر پر نکلیں تو ایک دوسرے کا سامنا ہو گیا۔
بی بطخ بڑے فخر سے بولی کہ کیا میرے سب سے پیارے چوزے نہیں ہیں ؟ کیا بی مرغی تم نے میرے پیارے چوزے پہلے کبھی نہیں دیکھے ؟ بی مرغی نے جواب دیا کہ واقعی بہت خوبصورت چوزے ہیں تمہارے۔
مگر یہاں بھی تو دیکھو کیا تم نے اس سے پہلے اتنے خوبصورت چوزے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔؟ جواب میں بطخ نے بھی مرغی کے چوزوں کی تعریف کی۔ اگلے دن بطخ اپنے چوزوں کو کہنے لگی کہ چلو ایک قطار بنائو اور میرے پیچھے چلو آج میں تمہیں تیرنے پر پہلا سبق سکھائوں گی۔
لیکن قطار نہیں بن رہی تھی۔ وہ بار بار قطار سے باہر نکل جاتے۔ چوزے تو بس ماں کے ارد گرد بھاگتے دوڑتے رہے۔
بطخ انہیں سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی۔ جب وہ تالاب کے پاس پہنچے تو چوزوں نے اپنے پائوں پانی میں ڈالے اور پانی میں اترنے سے انکار کردیا۔
ادھر بی مرغی اپنے چوزوں کو مرغی کی طرح چوگنا سکھا رہی تھی ۔ وہ انہیں زمین کو کھرونچ کر کیڑے مکوڑے پکڑنا سکھا رہی تھی۔ لیکن چوزے پکڑ نہیں پا رہے تھے۔ ماں انہیں بتا رہی تھی کہ کھیل میں ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر اپنی خوراک تلاش کریں جبکہ بچے ماں کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد مرغی نے کسی کام سے منہ کسی اور طرف کیا تو چوزے کتے کے پانی پینے والے برتن میں چلے گئے اور باہر آنے سے انکار کردیا۔ کتا ساتھ ہی سو رہا تھا‘ شور سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
صورتحال سے پریشان بی مرغی اور بی بطخ نے ٹھنڈی آہیں بھریں اور مسئلے کے حل کیلئے ساتھ ساتھ بیٹھیں۔
اب یہ دونوں سمجھ چکی تھیں کہ انہوں نے غلطی سے اپنے انڈے ایک دوسرے سے بدل لئے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اب ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے۔ کہ کس کے چوزے پیارے ہیں۔ ہم دونوں کے چوزے ہی بہت پیارے ہیں۔ پھر دونوں شام تک خوب باتیں کرتی رہیں اور اپنے اپنے چوزوں کو دیکھ کر خوش ہوتی رہیں۔
بی بطخ کے چوزے پانی کے پیالے میں تیر رہے تھے جبکہ مرغی کے چوزے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر اپنی خوراک تلاش کررہے تھے۔
تو پیارے بچو اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ خود پسندی اچھی عادت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر آپ کے پاس کو ئی بہترین چیز ہے تو یہ ضروری نہیں کے وہ صر ف آپ ہی کے پاس ہو۔دوسروں کی اچھائی کو بھی سراہنا چاہیے۔ اس طرح آپس میں پیار بڑھتا ہے۔
May 20, 2019

Maa Ki Dua

ماں کی دعا

سلیمان اپنی ماں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ان کی گزر بسر کا ذریعہ ایک چھوٹا سازمین کا ٹکڑا تھا،جہاں وہ فصل اور سبزیاں اُگاتے اور انھیں بیچ کر دن گزارتے تھے

جدون ادیب

سلیمان اپنی ماں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ان کی گزر بسر کا ذریعہ ایک چھوٹا سازمین کا ٹکڑا تھا،جہاں وہ فصل اور سبزیاں اُگاتے اور انھیں بیچ کر دن گزارتے تھے۔کچھ آمدنی مرغیوں کے انڈوں اور بکریوں سے حاصل ہو جاتی تھی ۔
یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ان کے حالات خراب رہتے تھے اور کبھی فاقہ بھی کرنا پڑتا۔ماں بار بار سلیمان سے کہتی کہ وہ شہر چلا جائے اور وہا ں سے رقم کما کر لائے ،مگر سلیمان ماں کی صحت اور اس کی خدمت کے خیال سے شہر جانے سے کترا تا تھا۔

انھی دنوں دونوجوان طالب علم ان کے گاؤں پہنچے۔وہ قریبی جنگل میں جڑی بوٹیوں پر تحقیق کرنے آئے تھے۔سلیمان نے ان کو مہمان بنا کر اپنے گھر ٹھیرایا اور پندرہ دن تک ان کے ساتھ جنگل جاتا رہا۔
وہ اپنا کام کرتے رہتے اور سلیمان ان کے لیے کھانا اور چائے وغیرہ تیار کرتا۔
وہ دونوں کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔سلیمان کو اس کی محنت کا معقول معاوضہ بھی دیتے تھے ۔جاتے ہوئے وہ سلیمان کو بطور انعام کچھ مزید رقم بھی دے گئے ۔اس رقم سے سلیمان نے اپنے حالت بہتر کرنے کی کوشش
کی۔
کچھ عرصے بعد ایک دن سلیمان کو خیال آیا کہ کیوں نہ وہ شہر جا کر ان مہربان طالب علموں سے ملے جو ایک بڑے طبیب کے شاگر د تھے ۔
انھوں نے سلیمان کو بتایا تھا کہ جنگل میں بڑی قیمتی جڑی بوٹیاں ہیں ،
جن کی شہرمیں بڑی اچھی قیمت مل جاتی ہے ۔انھوں نے سلیمان کو بنفشی رنگ کا ایک سوکھا ہوا پھول اور جنگل میں موجود اس کے پودے دکھائے تھے،جن پر بھی پھول نہیں آئے تھے ۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ ان پھولوں کو جمع کرنے کے لیے دو بارہ آئیں گے ۔
دوسرے دن سلیمان جنگل میں پہنچ گیا۔بہار کا موسم تھا۔ایک ہموار جگہ پر وہ پھول ہزاروں کی تعداد میں کھلے ہوئے تھے ۔سلیمان نے وہ پھول چننا شروع کردیے اور شام ہونے تک اس نے ایک بوری بھرلی اور گھر لوٹ آیا۔
اگلے دن ماں سے اجازت لے کر پھولوں بھری بوری لے کر شہر روانہ ہو گیا۔
شہر پہنچ کر اسے بڑے طبیب کا شفاخانہ تلا ش کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔دونوں شاگرد بھی وہیں مل گئے اور انھوں نے سلیمان کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیاا ور اس کی خوب خاطر کی ۔
سلیمان نے بوری کھول کر ان کو پھول دکھائے تو وہ بڑے حیران ہوئے اور تھوڑے سے پھول لے جا کر اپنے استاد کو دکھائے۔استاد نے ان کو ہدایت کی کہ وہ وزن کرکے اس سے سارے پھول لے لیں اور اس سے کہیں کہ جلد واپس جا کر اور پھول جمع کرے اور اپنے گھر پر دھوپ میں ان کو سکھاکر لائے ۔
اس کو معقول معاوضہ دیا جائے گا۔
سلیمان کو اتنی بڑی رقم مل گئی کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔وہ پھول بہت قیمتی تھے اور سال میں چند ہفتوں کے لیے کھلتے تھے ۔اگلی صبح سلیمان تیزی سے اپنے گاؤں روانہ ہو گیا۔رات کو وہ گھر پہنچا اور اگلی صبح جنگل پہنچ گیا۔
شام تک وہ پھول چنتا رہا۔رات کو وہ گھر پہنچا تو وہ دوبوریاں بھر چکا تھا۔اگلے دن وہ پھر جنگل روانہ ہوا تو گھر پر ماں نے سارے پھول دھوپ میں پھیلا دیے۔
اس طرح محنت کرتے کرتے دو ہفتے گزر گئے اور پھول ختم ہو گئے۔اس دوران سلیمان نے بارہ بوریاں بھر لی تھیں ۔
سلیمان نے سوچا کہ مزید دودن تک باقی رہ جانے والے پھول بھی سوکھ جائیں گے تو وہ کچھ بوریاں لے کر شہر روانہ ہو جائے گا،مگر اس سے پہلے ہی وہ دونوں طالب علم پہنچ گئے۔سلیمان نے ان کی خاطر کی۔جب سارے کاموں سے فراغت ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک جس کا نام حسن تھا،بولا:”سلیمان! تم جانتے ہو کہ یہ بنفشی پھول کتنا قیمتی ہے،مگر یہ بات ہم نے تمھیں بتائی ہے تو انصاف کا تقاضایہ ہے کہ جو آمدنی تمھیں حاصل ہو،اس میں سے آدھی رقم تم ہمیں دے دو۔

سلیمان نے چند لمحے سوچا اور پھر اقرر میں سر ہلا کر بولا:”آپ درست کہتے ہیں ۔یہ آپ کا حق بنتا ہے ۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ،مگر آدھی رقم آپ آپس میں کس طرح تقسیم کریں گے؟“
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا ،پھر دوسرا جس کا نام فہد تھا،بولا:”وہ ہم آپس میں آدھی آدھی بانٹ لیں گے۔

سلیمان نے ایک لمحے سوچا اور پھر بولا:”ایساکرتے ہیں ،ہم رقم کے تینوں برابر کے حصے دار بن جاتے ہیں ۔یہ زیادہ مناسب بات ہو گی۔“
وہ دونوں پھر چونکے اور مشورہ کرنے کے لیے ذرا فاصلے پر چلے گئے ۔تھوڑی دیر بعد وہ آئے تو حسن بولا:”سلیمان! استاد محترم چاہتے ہیں کہ تم ان کے شفا خانے میں ایک دکان لے لو،جہاں یہ پھول سارا سال بیچو ۔
اس کے لیے وہ تمھاری ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہیں ۔ان کی مدد سے تم تاجر بن جاؤ گے۔“
سلیمان نے ایک لمحے کے لیے سوچے بغیر کہا:”میں اپنی ماں کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا،مجھے چاہے کم پیسے ملیں ،مگر میں یہیں رہوں گا۔یہ پھول اور دوسری جڑی بوٹیاں جو آپ مجھے کہیں گے ،جمع کرکے میں آپ کو دوں گا۔
آپ لوگ میرے حصے دار بن جائیں ،مجھے جو میرے نصیب میں ہے ،وہ مل جائے گا۔“
فہد نے اُٹھ کر سلیمان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا:”سلیمان ! تم ایک سچے انسان ہو ۔ہمیں تمھاری محنت میں سے کوئی حصہ نہیں چاہیے۔ہم تمھیں آزمار ہے تھے۔
ہم تمھارے لیے دکان بھی قائم کریں گے ،جہاں تمھارے ملازم کام کریں گے اور تمھیں ساری قیمتی جڑی بوٹیاں سے واقف بھی کرائیں گے ،تاکہ تم یہیں رہ کر اس جنگل سے اپنا رزق کماؤ اور اپنی ماں کی خدمت کرو۔“
سلیمان کی ماں اسی دن کا انتظار کررہی تھی۔
وہ سلیمان کا رشتہ لے کر اپنے غریب بھائی کے گھر پہنچی اور سلیمان کی شادی طے ہوگئی۔
سلیمان کی شادی میں دونوں طالب علم نے شرکت کی اور سلیمان کو قیمتی تحفے دیے۔سلیمان نے رفتہ رفتہ ترقی کی اور بہت بڑا تاجر بن گیا۔اس کے پاس درجنوں ملازم کا م کرنے لگے،مگر اپنی ماں کی خدمت اب بھی خود کرتا تھا،کیوں کہ اسے یہ سب ماں کی خدمت کے بدلے ملا تھا۔
May 20, 2019

Naiki Ka Badla

نیکی کا بدلہ

کہتے ہیں کہ عرب کے کسی علاقے میں چوروں کے ایک گروہ نے کسی پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر لیا ۔اُن چوروں سے اُس پہاڑی کا قبضہ چھڑانے کیلئے اُس وقت کے بادشاہ کا لشکر عاجز رہا ۔وہ چور ایک

علی گل چیچہ وطنی
کہتے ہیں کہ عرب کے کسی علاقے میں چوروں کے ایک گروہ نے کسی پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر لیا ۔اُن چوروں سے اُس پہاڑی کا قبضہ چھڑانے کیلئے اُس وقت کے بادشاہ کا لشکر عاجز رہا ۔وہ چور ایک محفوظ ترین غار میں پناہ گزین تھے ،بادشاہ کو اُس کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ اگر ان لوگوں کے شرپر قابو نہ پایا گیا تو اُن کا شراسی طرح بڑھتا جائے گا جو درخت ابھی جڑ پکڑ رہا ہے ،اُسے اُکھیڑ نا زیادہ آسنا ہے ،بہ نسبت اس کے کہ وہ جڑ پکڑ جائے ۔

وہ مکمل درخت بن گیا تو پھر جڑ سے اُکھیڑنا مشکل ہو گا چنانچہ بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ ان ڈاکوؤں کی جاسوسی کروائی جائے ۔جس وقت وہ ڈاکو لوٹ مار کرنے کیلئے چلے تو اُن کی قیام گاہ خالی ہو گئی۔بادشاہ نے تجربہ کار اور لڑائی کے ماہر سپاہیوں کو اُس غار کی ایک گھاٹی میں تعینات کر دیا۔
رات گئے جب وہ ڈاکو لوٹ مار کے بعد واپس لوٹے تو تھکے مارے اُن چوروں نے اپنے ہتھیار اُتار ے اور لوٹا ہوا مال رکھا اور سوگئے ۔
رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد سپاہیوں نے اُن چوروں کو سوتے میں قابو کر لیا ۔اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ دےئے ۔
صبح کے وقت بادشاہ کے دربار میں پیش کیا،عوام الناس جانتے تھے کہ ابھی ان سب کی گردنیں اُڑادی جائیں گی ۔اُن چوروں میں ایک خوبصورت جوان بھی تھا جس کی ابھی داڑھی نکل رہی تھی ۔ایک وزیر کو جوان پر ترس آگیا۔
اُس نے بادشاہ کے تخت کو بوسہ دیا اور جو ان کی سفارش کی کہ ابھی اس نے اپنی جوانی گزارنی ہے ۔
میں آپ کے عمدہ اخلاق سے اُمید کرتا ہوں کہ اس جوان کے حق میں میری سفارش کو قبول کیا جائے گا اور اُسے معاف کر دیا جائے ۔یہ آپ کا میرے اوپر احسا ن ہو گا۔بادشاہ نے جب وزیر کی بات سنی تو جلال میں آگیا جس کی حقیقت بری ہو وہ نیکیوں کے سایہ میں بھی صحیح نہیں رہ سکتا اور نااہل کی تربیت کرنا ایسا ہے جیسے گنبد پر اخروٹ رکھنا۔
وزیر نے جب بادشاہ کا موقف سنا تورضا مندی ظاہر کرتے ہوئے بادشاہ کی رائے کو سراہا اور عرض کیا بادشاہ کا فرمان اپنی جگہ درست ہے مگر ان کی صحبت میں رہ کر یہ جوان ضرور انہی کی مانند ہو جاتا ۔
الغرض بادشاہ کو وزیر کی بات اچھی لگی اور اُس جو ان کی تربیت نہایت نازونعم سے ہوئی۔
اسے پڑھایا لکھا یا گیا،بادشاہ کے حضور بیٹھنے کا سلیقہ سکھایا پھر اُس جوان کی ہر کوئی تعریف کرنے لگا لیکن بھیڑیے کا بچہ بھیڑیا ہی ہوتا ہے ،وہ جو ان دو سال کی تربیت اور محنت کے باوجود علاقہ کے بد معاش نوجوانوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا اور ایک دن اُس نے دوستوں سے مل کر وزیر کے دو بیٹوں کو قتل کر دیا اور قتل کرنے کے بعد اُس کا مال لے کر بھاگ گیا۔
اس جوان نے اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرکے اُس پہاڑی کی جانب روانہ ہو گیا جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو وہ افسوس سے کہنے لگا ۔اس میں کوئی شک نہیں ،باغ میں پھول اُگتے ہیں اور بنجر زمین میں کبھی پھول نہیں اُگتے۔
May 20, 2019

Shehzadi Aur Lakar-hara

شہزادی اور لکڑہارا۔۔تحریر:مختار احمد

ملکہ نے اس سے کہا بھی کہ وہ شہزادی کو گود میں لے لے مگر بادشاہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شہزادی اتنی سی تو ہے، ہماری گود سے گر نہ پڑے-

شہزادی سلطانہ بادشاہ کی شادی کے بعد بڑی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوئی تھی- بادشاہ اور ملکہ تو اس کی پیدائش پر خوش تھے ہی مگر جس روز وہ پیدا ہوئی تھی پورے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی- ہر طرف جشن منایا جا رہا تھا- بادشاہ کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنی پیاری بیٹی کا باپ بن گیا ہے- وہ بار بار ملکہ کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور ننھی شہزادی کو دیکھ کر خوش ہوتا- ملکہ اس کو دیکھ دیکھ کر مسکراتی تھی- ملکہ نے اس سے کہا بھی کہ وہ شہزادی کو گود میں لے لے مگر بادشاہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شہزادی اتنی سی تو ہے، ہماری گود سے گر نہ پڑے- شہزادی بے انتہا خوبصورت تھی- اس کی آنکھیں بڑی بڑی رنگ شہابی اور بال سنہری تھے- وہ روتی تھی تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے چاروں طرف جلترنگ بجنے لگے ہوں- اس کی ہنسی کی آواز کیسی تھی، یہ کوئی نہیں بتا سکتا کیوں کہ اتنے چھوٹے بچے ہنستے نہیں صرف مسکراتے ہیں- بادشاہ کا دل اب دربار میں بھی نہیں لگا کرتا تھا، اس کا تمام دھیان شہزادی سلطانہ میں ہی لگا رہتا تھا- شہزادی سلطانہ کی پرورش بڑے ناز و نعم سے ہو رہی تھی- اس کے کھلونے سات سمندر پار سے آتے تھے- ماہر کاریگر ریشم کے کیڑوں سے حاصل کردہ ریشم سے اس کے لباس بناتے تھے- اس کے جوتے نہایت ہلکے پھلکے ہوتے تھے کیوں کہ وہ جانوروں کی کھال کے بجائے قیمتی پرندوں کی کھال سے تیار کیے جاتے تھے- اس زمانے میں پیمپروں کا رواج نہیں تھا ورنہ ملکہ بیش قیمت پیمپر بھی منگوا کر رکھتی- شہزادی سلطانہ کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی کنیزیں رکھی گئی تھیں، جو ہر وقت اس کے آس پاس رہتی تھیں- رات کو بستر پر ملکہ اس کونے پر سوتی تھی، بادشاہ دوسرے کونے پر اور بیچ میں شہزادی سلطانہ- وہ ایک ٹانگ بادشاہ پر اور دوسری ملکہ پر رکھ کر بے خبر سوجاتی تھی- شہزادی سلطانہ کی پرورش بہت لاڈ پیار سے ہو رہی تھی اور اس لاڈ پیار نے اسے کسی حد تک بگاڑ دیا اور وہ کافی بدتمیز ہو گئی تھی- وہ کسی کا کہنا نہیں مانتی تھی، کھانے کی کوئی چیز پسند نہ ہوتی تو اس کو پھینک دیتی- ملکہ سے چیخ کر بات کرتی تھی، باپ سے چیخ کر بات تو نہیں کرتی تھی، لیکن اگر اسے بادشاہ کی کوئی بات پسند نہ آتی تو دانت پیس کر اس کے چٹکی بھر لیا کرتی تھی- یہ بات نہیں تھی کہ وہ صرف ملکہ کا کہا ہی نہیں مانتی تھی، بادشاہ بھی اس سے کچھ کہتا تو وہ اس کی بات بھی نہیں مانتی تھی- یہ سب اس کے بچپن کی باتیں تھیں- بادشاہ اور ملکہ ان باتوں کو اس لیے نظر انداز کرتے رہے کا وہ بچی تھی اور اکلوتی تھی اور شادی کے بہت سالوں بعد پیدا ہوئی تھی- مگر بادشاہ کا ماتھا اس دن ٹھنکا، جب اپنی سولہویں سالگرہ کی تقریب میں غصے میں آ کر اس نے کیک کو زمین پر گرا دیا- اس تقریب میں وزیر، مشیر اور امرا اپنی بیگمات کے ساتھ شامل تھے- شہزادی سلطانہ کی اس حرکت سے بادشاہ کی سخت بے عزتی ہوئی تھی- وہ محفل سے اٹھ کر چلا گیا- خود ملکہ بھی سناٹے میں رہ گئی تھی- اس نے شہزادی کو سرزنش کی تو شہزادی اس سے بدزبانی کرنے لگی- اس نے میز پر رکھے ہوئے مشروبوں کے پیالے زمین پر پھینک دیے اور روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی- اگلے روز اس کے اس سلوک کا جگہ جگہ چرچا ہو گیا تھا- لوگ سخت افسوس کر رہے تھے کہ ان کا بادشاہ کس قدر اچھا اور رعایا پرور ہے مگر اس کی بیٹی کو دیکھو، نہایت چڑ چڑی، بددماغ اور بداخلاق ہے- اللہ ایسی بیٹی دشمن کو بھی نہ دے- بادشاہ کے کانوں میں بھی یہ باتیں پڑنے لگی تھیں- وہ بہت غمزدہ تھا- اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کے اور ملکہ کے لاڈ پیار نے شہزادی کو دو کوڑی کا کردیا ہے- غلطی ان ہی کی تھی مگر اب کیا ہوسکتا تھا- ملکہ بھی بہت پریشان تھی- سالگرہ والے واقعہ کے بعد بادشاہ اور ملکہ نے شہزادی سے بات چیت کم کردی تھی مگر شہزادی کو اس بات کی پرواہ بھی نہیں تھی- اپنی غلطی اگر تسلیم کرتی تو خود کو بدلنے کی کوشش کرتی، مگر اس نے آج تک خود کو غلط سمجھا ہی نہیں تھا- بادشاہ چپ چپ رہنے لگا تھا- اگر ایسی بیٹی کسی اور کی بھی ہو تی تو وہ بے چارہ بھی چپ چپ ہی رہتا- بادشاہ کو یوں چپ چپ دیکھ کر ایک روز اس کے وفادار اور عقلمند وزیر نے کہا- "جہاں پناہ- ایسے تو حالات ٹھیک نہیں ہونگے- ان کو ٹھیک کرنے کی کوئی تدبیر کرنا ہوگی- میرا تو خیال ہے کہ شہزادی صاحبہ کی شادی کردی جائے- امید ہے کہ شادی کے بعد وہ ٹھیک ہو جائیں گی"- بادشاہ نے کہا- "منہ پھٹ اور بدتمیز لڑکیوں سے کون شادی کرتا ہے- شہزادی سلطانہ کے ساتھ کوئی نوجوان شادی پر تیار نہیں ہوگا"- بادشاہ کی بات سن کر وزیر سوچ میں پڑ گیا- بہت دیر تک سوچنے کے بعد اس نے کہا- "جہاں پناہ- اگر آپ میری بات پر عمل کریں تو مجھے پکّا یقین ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا"- بادشاہ نے بے بسی سے کہا- اے وزیر اس پریشانی سے نکلنے کے لیے ہم تمھاری ہر بات ماننے کو تیار ہیں"- وزیر بولا- پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے رویے اور لہجے میں سختی پیدا کریں- بچوں سے ہر وقت نرم لہجے کی گفتگو انھیں خودسر بنا دیتی ہے- دوسری بات میں آپ کو بعد میں بتاوٴں گا"- بادشاہ نے حامی بھرلی کہ وہ ایسا ہی کرے گا- بادشاہ جب محل میں پہنچا تو شہزادی سلطانہ کا موڈ خوشگوار تھا- باپ کو دیکھ کر وہ دوڑ کر اس کے قریب آئی اور محبت سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا- "ابّا حضور آپ مجھ سے ناراض نہ ہوا کریں"- بادشاہ نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑا لیا اور کچھ درشت لہجے میں بولا- شہزادی- آپ محل کے آداب کا خیال رکھا کیجیے- ہم اس سلطنت کے شہنشاہ ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ ہم آپ کے باپ ہیں مگر تمیز بھی کوئی چیز ہوتی ہے"- یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے تیز تیز چلتا ہوا باہر نکل گیا- شہزادی سلطانہ کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا- بادشاہ کی اس بات نے اسے سہما دیا تھا حالانکہ اسے غصہ بھی آرہا تھا- اس نے اس بات کی شکایت ملکہ سے کی- ملکہ تو خود اس کے برے رویے سے تنگ تھی ، بیرخی سے بولی- "اتنی بڑی ہو گئی ہو، کچھ تو تمیز سیکھ لو"- شہزادی سلطانہ ماں کو تو کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی، اس کی بات سن کر غصے میں پاوٴں پٹختے ہوئے چلی گئی- رات کو بادشاہ نے ملکہ سے کہا- "ملکہ ہم چاہتے ہیں کہ اب شہزادی سلطانہ کی شادی کر دی جائے"- ملکہ اداسی سے بولی- "اس سے کون شادی کرے گا- اس کی بدمزاجی کے قصے تو بچے بچے کی زبان پر ہیں"- ملکہ کی بات بادشاہ کے دل پر لگی تھی اور اس کی آنکھیں نم ہوگئیں- وہ خاموش ہوگیا- ان تمام واقعات کے بعد شہزادی سلطانہ اپنے کمرے میں ہی بند ہو کر رہ گئی تھی- شام کو وزیر بادشاہ سے ملنے آیا، اس کے آنے کی خبر سنی تو بادشاہ کو یاد آگیا کہ وزیر نے شہزادی والے معاملے میں کوئی بات بتانے کا وعدہ کیا تھا- اس نے فوراً وزیر کو طلب کرلیا اور وہ دونوں ایک کمرے میں بیٹھ کر چپکے چپکے باتیں کرنے لگے-اگلے بادشاہ کی ہدایت پر ملکہ نے شہزادی سلطانہ کو یہ اطلاع دی کہ اس کی شادی طے کردی گئی ہے - شہزادی نے یہ سنا تو وہ پھٹ پڑی- "ہاں ہاں کردیجیے میری شادی- میں خود اب یہاں نہیں رہنا چاہتی ہوں"- کچھ دنوں بعد شادی کی تقریب ہوئی- شام کو شہزادی کو اس کے شوہر کے ساتھ ایک بگھی میں بیٹھا کر روانہ کردیا گیا- شادی بڑی سادگی سے ہوئی تھی، نہ دھول تاشے بجے نہ آتش بازی کی گئی- شہزادی سلطانہ اس دوران اتنے غصے میں تھی کہ اس نے یہ بھی نہیں پوچھا تھا کہ اس کی شادی کس سے ہورہی ہے اور نہ ہی اس نے نظر بھر کر اپنے دولہا کو دیکھا، اور تو اور رخصتی کے وقت وہ بادشاہ اور ملکہ سے لپٹ کر روئی بھی نہیں، اس کی یہ وجہ نہیں کہ اس کو ڈر تھا کہ رونے سے اس کا میک اپ خراب ہو جائے گا- اس کا تو کسی نے بناوٴ سنگھار بھی نہیں کیا تھا، بلکہ وہ اس لیے نہیں روئی کہ اس کو رونا ہی نہیں آرہا تھا کیوں کہ وہ بادشاہ اور ملکہ سے سخت ناراض تھی- بگھی میں بیٹھی تو اس نے کن آنکھوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا- وہ ایک بہت حسین و جمیل نوجوان تھا مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی بیرخی تھی، شادی کے موقع پر تو چہرے پر خوشی کے اثار ہوتے ہیں، مگر وہ تو سنجیدہ شکل بناے بیٹھا تھا- شہزادی کو زندگی میں پہلی مرتبہ کچھ خوف کا احساس ہوا- تھوڑی دیر بعد بگھی رک گئی- ان کی منزل آگئی تھی، وہ اس نوجوان کا گھر تھا- وہ نوجوان اتر کر نیچے کھڑا ہو گیا- اس نے جب دیکھا کہ شہزادی اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی تو سختی سے بولا- "شہزادی صاحبہ اب اتر بھی جاوٴ- یہاں کنیزیں نہیں ہیں کہ ہاتھ پکڑ کر اتاریں گی- میں تو ایک لکڑ ہارا ہوں پہلے سارا کام میں خود کرتا تھا اب تم سے کروایا کروں گا، میں نے زندگی میں بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں، اب سکھ کا وقت آیا ہے"- شہزادی تو ہکابکا رہ گئی- اس کی شادی ایک لکڑ ہارے سے کردی گئی تھی- دکھ اور شرمندگی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے- اسے روتا دیکھ کر لکڑہارا نرم پڑ گیا- "میری تکلیف کا سن کر تمھاری آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں، مجھے خوشی ہوئی، اچھی بیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں"- "غلط نہ سمجھو، میں تو اس بات پر روئی ہوں کہ میری شادی ایک لکڑ ہارے سے کردی گئی ہے- ابّا حضور سے مجھے یہ امید نہیں تھی"- شہزادی سلطانہ نے بگھی سے نیچے اترتے ہوئے کہا- لکڑہارا ہنسنے لگا- "تو تم کیا سمجھ رہی تھیں کہ تم جیسی بدتمیز لڑکی کی شادی کسی شہزادے سے ہوتی؟"- "تم مجھے میرے منہ پر بدتمیز کہہ رہے ہو"- شہزادی نے چیخ کر کہا- "میں تو منہ پر ہی کہہ رہا ہوں، لوگ تو تمہیں پیٹھ پیچھے بھی یہ ہی کہتے ہیں"- وہ تو بادشاہ سلامت کا حکم تھا کہ میں تم سے شادی کروں، میں مجبور ہو گیا تھا، ورنہ تم جیسی لڑکی سے کبھی بھی شادی کی حامی نہ بھرتا- انہوں نے اپنی مصیبت میرے گلے ڈالدی ہے اب زندگی بھر بھگتوں گا"- لکڑ ہارے کی یہ توہین آمیز باتیں سن کر شہزادی نے زور زور سے رونا شروع کر دیا- لکڑہارا اس کے رونیب سے گھبرا گیا تھا مگر اس نے ظاہر نہیں کیا، شہزادی سے بولا- "تم نے اگر رونا دھونا بند نہیں کیا تو میں تمہیں جنگل میں چھوڑ آوں گا- شیر چیتے دن میں تو نہیں البتہ رات کو ضرور باہر نکل آتے ہیں"- اس کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی، شہزادی نے رونا بند کر دیا- لکڑہارا اسے لے کر گھر میں داخل ہوا- گھر کافی بڑا تھا اور اس سے بڑا اس کا صحن تھا مگر اس میں سامان بہت معمولی تھا- شہزادی منہ بنا کر ایک طرف بیٹھ گئی- لکڑہارے نے باورچی خانے میں جاکر کھانے کا انتظام کیا- شہزادی کو بھوک لگ رہی تھی اس لیے اس نے چپ چاپ کھانا کھا لیا- کھانے کے دوران وہ چپ ہی بیٹھی رہی تھی- کھانے کے بعد بولی- "میں اپنی قسمت پر شاکر ہوں مگر ابّا حضور اور امی حضور نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے"- لکڑہارا تلخی سے بولا- "ان کی زیادتی تو تمہیں یاد ہے، تم کیا کرتی تھیں بھول گئیں- تم نے ان کے لاڈ پیار کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا- تم اکلوتی تھیں، اس لیے وہ تم سے بہت پیار کرتے تھے، تمھاری ہر بات مانتے تھے اور ہر خواہش پوری کرتے تھے اور تم نے اس کا یہ صلہ دیا کہ اپنی من مانی کرنے لگیں اور یہ من مانیاں بڑھ کر بدتمزیوں میں تبدیل ہوگئیں- ضد تو چھوٹے بچے کرتے ہیں اور ضد کرتے بچے اچھے بھی لگتے ہیں مگر تمھارے جیسی بڑی لڑکیاں ضد کرتے ہوئے کتنی واہیات لگتی ہیں، میرا بس چلے تو ایسی لڑکیوں کو مرکھنے بیل کے آگے ڈالدوں تاکہ وہ ان کے خوب ٹکریں ماریں اور مزہ چکھادیں- یہ سن کر شہزادی پھر رونے لگی- "تم میری بے عزتی کر رہے ہو"- "اب تم میری بیوی ہو، تمھاری بری باتوں کا تذکرہ اس لیے کر رہا ہوں کہ تم ان کو چھوڑ دو تاکہ ہماری زندگی ہنسی خوشی گزرے- یاد کرو سالگرہ والے دن تم نے کتنی بدتمیزی کی تھی"- لکڑہارے نے اسے یاد دلایا- شہزادی چونک گئی- "تمہیں کیسے پتا چلا؟"- "یہ بات تو ہمارے ملک کے بچے بچے کو پتہ ہے- اس دن ہمارے محلے میں دو عورتوں کی لڑائی ہو رہی تھی تو ان میں سے ایک عورت نے دوسری عورت کو یہ کہہ کر بددعا دی تھی کہ اللہ کرے تیری بچی شہزادی کی طرح بدتمیز ہوجائے"- یہ سن کر شہزادی کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا- لکڑہارے کی باتیں سن کر اس کو احساس ہونے لگا تھا کہ واقعی اس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت زیادتی کی تھی- وہ اس سے اتنی محبت کرتے تھے مگر اس نے ہمیشہ اس محبّت کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا- اپنی یہ باتیں سوچ سوچ کر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے- وہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگی- لکڑ ہارے نے کہا- "صبح مجھے جلدی اٹھا دینا- اب ہم ایک سے دو ہوگئے ہیں- مجھے زیادہ لکڑیاں کاٹنا پڑیں گی تاکہ اتنے پیسے ملیں کہ ہمارے گھر کے اخراجات ٹھیک طرح سے چلیں، ویسے بھی تم بادشاہ کی بیٹی ہو، خرچ کے معاملے میں تمہارا ہاتھ کھلا ہوگا- اور دیکھو ہمارے گھر میں بہت سی مرغیاں بھی ہیں، ان کے انڈے سنبھال کر رکھنا، محلے والے انھیں خریدنے آئیں تو انھیں فروخت کردیا کرنا"- کمرے میں دو ہی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، ایک لکڑہارے کے بولنے کی آواز اور دوسری شہزادی کی سسکیوں کی- شہزادی کو اپنی امی اور ابّا شدت سے یاد آ رہے تھے- اگلے روز لکڑہارے کو بڑی حیرت ہوئی، وہ سو کر اٹھا تو شہزادی نے اس کے لیے انڈے اور پراٹھوں کا انتظام کیا ہوا تھا- "ناشتہ تم نے بنایا ہے؟"- اس نے حیرت سے پوچھا- "نہیں یہ چیزیں میں نے محلے کے ایک بچے سے نانبائی کی دکان سے منگوائی تھیں- مجھے تو کچھ پکانا ہی نہیں آتا"- یہ کہتے ہوئے شہزادی کا شرم سے منہ سرخ ہوگیا وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا لکڑہارا شوہر کیا سوچے گا کہ یہ اتنی بڑی ہو گئی ہے اور اسے کھانا بھی پکانا نہیں آتا- لکڑہارا شام کو گھر آیا تو اسے صبح سے بھی زیادہ حیرت ہوئی، شہزادی کمر سے دوپٹہ باندھے صحن میں جھاڑو دے رہی تھی، مرغیاں اس کے آگے پیچھے پھر رہی تھیں، گھر کا دروازہ حالانکہ کھلا ہوا تھا مگر وہ شہزادی کے پاس سے بھاگ کر باہر نہیں گئیں-"دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں" لکڑہارے نے کہا- وہ جلدی سے اس کے پاس آء، وہ ایک بدلی ہوئی لڑکی لگ رہی تھی، اس کے چہرے پر اب وہ وحشت اور کرختگی بھی نظر نہیں آرہی تھی جو لکڑہارے نے کل دیکھی تھی- لکڑہارے نے بہت سارے سرخ سرخ بیر اس کے ہاتھوں پر رکھ دئیے "انہیں میں نے جنگل میں سے تمہارے لیے توڑا تھا"- اس نے خوش ہو کر انھیں لے لیا اور مزے سے کھانے لگی- "یہ تو بڑے مزے کے ہیں"- اس کی آواز سن کر لکڑہارے کو بہت اچھا لگا، ایسا لگ رہا تھا جیسے کہیں آس پاس جلترنگ بج اٹھے ہوں- کل تو شہزادی کی آواز ایسی تھی کہ اسے سن کر لکڑ ہارے کا دل چاہ رہا تھا کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے- "میں نے محلے کے اسی لڑکے سے کھانا منگوالیا ہے- اس کو میں انعام میں دو سکے دیتی ہوں وہ بھاگ کر میرا کام کردیتا ہے"- کھانے کے بعد لکڑہارے نے کہا- "شہزادی مجھے خوشی ہے کہ تم بہت بدل گئی ہو"- وہ بولی- "آپ کی باتیں سن کر مجھے احساس ہوگیا ہے کہ میں کس قدر بدتمیز اور بداخلاق تھی- میں نے امی حضور اور ابّا حضور کو بہت دکھ دئیے ہیں- میں بہت شرمندہ ہوں- میں ان سے مل کر ان سے معافی مانگنا چاہتی ہوں- آپ مجھے ان سے ملانے لے جائیں گے؟"- لکڑہارے نے گھبرا کر کہا "کبھی بھی نہیں، تم وہاں جاوٴ گی تو وہیں رہ جاوٴ گی- میں کیا کروں گا- میری مرغیوں کو دانا کون ڈالے گا- گھر کی صفائی کون کرے گا؟"- شہزادی نے شرما کر کہا- "ان سے مل کر میں واپس آجاوٴنگی- میرا اصل گھر تو اب یہ ہی ہے"- لکڑہارے نے یہ بات سنی تو اس کا دل چاہا کہ مارے خوشی کے ایک زور کی چیخ مارے مگر اس نے ضبط کیا اور دھیرے سے بولا- "ٹھیک ہے ہم کل محل چلیں گے- مگر میں لکڑیاں کاٹنے جنگل نہیں گیا تو پیسے نہیں ملیں گے"- اس کی اس بات پر وہ بولی "اس کی تو تم فکر ہی مت کرو- میں نے بہت ساری اشرفیاں جمع کر رکھی ہیں جو محل میں میرے کمرے میں ہی ہیں- میں وہ بھی لیتی آوٴں گی"- اگلے روز وہ لوگ محل پہنچ گئے- انھیں دیکھا تو ملکہ نے جلدی سے شہزادی کو گلے سے لگا لیا ا ور رونے لگی- بادشاہ کو بھی اطلاع مل گئی تھی، وہ بھی وہاں آ گیا- اسے دیکھ کر شہزادی روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی- "ابّا حضور مجھے معاف کردیں- مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے، میں نے آپ لوگوں کو بہت تنگ کیا تھا اور اپنی حرکتوں سے آپ کو بہت دکھ پہنچایا تھا- میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گی"- بادشاہ کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں- اس نے بھی شہزادی کو محبت سے لپٹا لیا اور بولا "غلطیاں بچے ہی کرتے ہیں- بڑوں کا فرض ہے کہ انھیں معاف کردیں- بیٹی- ہمیں تم سے کوئی شکایت نہیں ہے بلکہ اس بات کی خوشی ہے کہ تمہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے"- پھر وہ لکڑہارے کی طرف متوجہ ہوا- "شہزادہ بابر ہم تمھارے مشکور ہیں کہ تم نے شہزادی کو راہ راست پر لانے میں ہماری مدد کی"- لکڑہارا جو اصل میں شہزادہ تھا اس نے ہاتھ باندھ کر بادشاہ کو تعظیم دی اور بولا- "یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے شہزادی جیسی بیوی ملی ہے"- ان دونوں کی باتوں کو شہزادی بہت حیرت سے سن رہی تھی جب کہ ملکہ کھڑی مسکرا رہی تھی- اس کی حیرت بھانپ کر بادشاہ نے کہا- "بیٹی- ہمارے وزیر نے ہی ہمیں یہ صلاح دی کہ شہزادہ بابر کو ایک لکڑہارا بنا کر اس کی شادی تم سے کر دی جائے- شہزادہ بابر ایک ذہین نوجوان ہے، اس کی باتوں سے متاثر ہو کر تمہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوگیا ہے- ہم بہت خوش ہیں "- شہزادی کی اس تبدیلی سے ہر طرف خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے تھے- شہزادی نے ان شاہی غلاموں اور کنیزوں سے بھی معافی مانگی جن کے ساتھ اس نے کبھی اچھا سلوک نہیں کیا تھا- ان لوگوں میں اس نے اشرفیاں بھی تقسیم کیں- وہ سب بھی خوش ہوگئے- رات کے کھانے کے بعد شہزادی نے شہزادہ بابر سے کہا- "میں تیار ہو کر آتی ہوں پھر چلتے ہیں"- ملکہ نے حیرت سے پوچھا- "بیٹی- کہاں جانے کا کہہ رہی ہو؟"- شہزادی نے شرما کر کہا- "اپنے گھر، جہاں ہماری مرغیاں ہیں اور محلے میں وہ لڑکا ہے، جو چھوٹے بھائیوں کی طرح بھاگ بھاگ کر میرے کام کرتا ہے"- اس کی بات سن کر بادشاہ اور ملکہ کھلکھلا کر ہنس پڑے- بہت دنوں بعد محل میں ان دونوں کی ہنسی لوگوں نے سنی تھی- خیر بادشاہ نے دوبارہ تو ان کو وہاں نہیں بھیجا، مرغیاں اس نے محل میں ہی منگوالی تھیں تاکہ شہزادی خوش ہوجائے- اس لڑکے کو جو بازار سے شہزادی کے لیے چیزہیں خرید کر لایا تھا، شہزادی نے بہت سے تحفے بھجوادیے تھے- پھر کچھ دن محل میں گزار کر شہزادہ بابر شہزادی سلطانہ کو لے کر اپنے ملک روانہ ہو گیا اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے-